سردیوں میں گرم مشروبات: لطف بھی، احتیاط بھی

سردیوں کا موسم آتے ہی چائے، کافی اور دیگر گرم مشروبات کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ ٹھنڈ سے بچنے اور جسم کو گرم رکھنے کے لیے یہ مشروبات وقتی سکون تو فراہم کرتے ہیں، مگر اگر ان کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو یہی عادت ہماری جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سرد موسم میں ویسے ہی ہوا میں نمی کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث جلد خشکی کا شکار ہوتی ہے، اور ایسے میں گرم مشروبات کی زیادتی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ماہرینِ جلد کے مطابق چائے اور کافی میں موجود کیفین جسم میں پانی کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہوتی ہے تو اس کا سب سے پہلا اثر جلد پر پڑتا ہے، جو کھردری، بے جان اور خشک دکھائی دینے لگتی ہے۔ کئی افراد کو سردیوں میں ہونٹوں کا پھٹنا، ہاتھوں اور چہرے پر کھجلی یا جلن جیسی شکایات اسی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں، مگر وہ اس کا تعلق اپنی روزمرہ عادات سے جوڑنے کے بجائے صرف موسم کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔

سردیوں میں صحت مند جلد کے لیے ضروری ہے کہ گرم مشروبات کے ساتھ ساتھ پانی کا مناسب استعمال بھی کیا جائے۔ اس کے علاوہ سوپ، نیم گرم دودھ، سبزیاں اور پھل غذا میں شامل کرنے سے جسم میں نمی برقرار رہتی ہے۔ جلد پر موئسچرائزر کا استعمال اور نہانے کے بعد کریم لگانا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اعتدال ہی بہترین راستہ ہے، کیونکہ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سردیوں سے لطف اندوز ہونا بری بات نہیں، مگر اپنی صحت خصوصاً جلد کی حفاظت کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ اگر ہم اپنی عادات میں تھوڑی سی سمجھداری اور توازن پیدا کر لیں تو نہ صرف موسم سے لطف اٹھا سکتے ہیں بلکہ صحت مند اور تروتازہ جلد بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں