اسلام میں عورت کو گھر کے انتظام اور خاندان کی دیکھ بھال میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے اور اسے بعض علماء نے “رَبَّةُ الْبَيْت” کہا ہے، جس کا مطلب ہے “گھر کی مالکہ”۔ اس اصطلاح سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت نہ صرف گھر کی صفائی، کھانے پینے اور دیگر گھریلو امور میں ذمہ دار ہے بلکہ بچوں کی تربیت، اخلاقی اور روحانی رہنمائی میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے۔ قرآن و سنت میں عورت کی خدمات اور محنت کو اہمیت دی گئی ہے اور اسے گھر کے سکون اور نظم و ضبط میں لازمی شریک سمجھا گیا ہے۔ اسلام میں عورت کو محض خدمت کرنے والی کے طور پر نہیں بلکہ شوہر کی زندگی اور گھر کے نظم میں شریک اور گھر کی عزت و احترام کی ضامن کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس طرح، “رَبَّةُ الْبَيْت” کی اصطلاح عورت کے معزز مقام اور گھر میں اس کے کردار کی طرف روشنی ڈالتی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خاندان کا سکون اور تربیت اس کی بصیرت، حکمت اور محنت سے وابستہ ہے۔
اسلام میں عورت کا مقام: “رَبَّةُ الْبَيْت” یعنی گھر کی مالکہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







