سائنس کی دنیا سے سامنے آنے والی یہ خبر واقعی حیران کن ہے کہ درخت محض خاموش کھڑے رہنے والی مخلوق نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ بھی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگلات میں درختوں کی جڑیں زمین کے نیچے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ مخصوص فنگس (کھمبیات) مل کر ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دیتی ہیں، جسے “ووڈ وائیڈ ویب” کہا جاتا ہے۔ اس قدرتی نیٹ ورک کے ذریعے درخت پانی، غذائی اجزا اور معدنیات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب کسی درخت پر کیڑے حملہ کرتے ہیں یا بیماری لاحق ہوتی ہے تو وہ کیمیائی اشاروں کے ذریعے قریبی درختوں کو خبردار کر دیتا ہے، جس کے بعد دوسرے درخت خود کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پتوں میں حفاظتی مادے پیدا کر لیتے ہیں۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پرانے اور مضبوط درخت اس نظام میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور کمزور یا نئے پودوں کو اضافی خوراک فراہم کر کے ان کی بقا میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف فطرت کی باہمی ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسانوں کو بھی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کا سبق دیتی ہے۔







