دنیا بھر کی صحت اور جنگی صورتحال ایک تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق سوڈان میں گزشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی اب دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔ اس طویل جنگ کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، جبکہ بنیادی صحت کی سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ہسپتالوں کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور طبی عملے کی قلت نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ موجود ہے، جن میں ہیضہ، خسرہ، ملیریا اور غذائی قلت سے جڑی بیماریاں شامل ہیں۔ صاف پانی اور خوراک کی کمی نے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر فوری عالمی امداد اور جنگ بندی کے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف سوڈان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آگے بڑھے، متاثرہ آبادی کو فوری طبی امداد فراہم کرے اور پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ انسانی جانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔







