سپریم کورٹ نے پنشن سے متعلق ایک اہم اور واضح فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنشن کوئی خیرات یا احسان نہیں بلکہ سرکاری ملازم کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے مطابق ملازمین اپنی پوری زندگی ریاست کی خدمت میں گزارتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ان کی خدمات کا جائز معاوضہ ہوتی ہے۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے پنشن کی ادائیگی میں تاخیر، کٹوتی یا غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ عمل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ پنشنرز کی عزتِ نفس اور مالی تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی قسم کی لاپروائی یا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کے پنشنرز کو بھی تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ سرکاری اداروں کو پنشن کے نظام میں شفافیت اور بہتری لانا ہوگی۔ اس فیصلے کو ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔







