ٹک ٹاک نے پاکستان میں 2 کروڑ 81 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کر دیں

ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں 2 کروڑ 81 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی اور ڈیجیٹل ضابطوں کی ایک بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

ٹک ٹاک کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہٹائی گئیں۔ حذف کیے گئے مواد میں زیادہ تر ویڈیوز ایسی تھیں جن میں غیر اخلاقی یا حساس مواد، غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر، جعلی خبروں، ہراسانی اور گمراہ کن ویڈیوز شامل تھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پلیٹ فارم کو محفوظ، مثبت اور تمام عمر کے صارفین کے لیے موزوں بنانا ہے

رپورٹ کے مطابق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تقریباً 95 فیصد سے زائد ویڈیوز کو اپ لوڈ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی حذف کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک نے خودکار نظام (AI) اور انسانی نگرانی دونوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ اس عمل سے نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کو بروقت روکنے میں مدد ملی

ٹک ٹاک حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صارفین کی بڑی تعداد اور مواد کی تیزی سے ترسیل کے باعث مواد کی جانچ ایک بڑا چیلنج ہے، اسی لیے کمیونٹی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف مقامی قوانین کے احترام کے لیے ہیں بلکہ عالمی معیار کے مطابق ڈیجیٹل ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش بھی ہیں

ماہرین کے مطابق اس بڑی تعداد میں ویڈیوز کا حذف ہونا ایک طرف تو غلط اور نقصان دہ مواد کے خلاف سخت کارروائی کو ظاہر کرتا ہے، تاہم دوسری جانب یہ صارفین کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ وہ مواد اپ لوڈ کرتے وقت پلیٹ فارم کے قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھیں، تاکہ ان کا اکاؤنٹ یا ویڈیو متاثر نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں