ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر دنیا خاموش

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانے کی اپیل کے باوجود عالمی برادری کی معنی خیز خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش یا محدود رسائی کو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کو متحد ہو کر اس راستے کو ہر صورت کھلا رکھنا چاہیے، تاہم بڑی طاقتوں کی جانب سے تاحال کوئی عملی یا واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی قوتوں کی یہ خاموشی دراصل خطے کی حساس صورتحال اور ممکنہ تصادم کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ کئی ممالک براہِ راست کسی بھی تنازع میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ دوسری جانب ایران بھی اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتا ہے اور آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اور متفقہ حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ عالمی تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کی صورتحال آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی موضوع بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں