مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں اور فوجی اہداف پر جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے اور آگ و دھویں کے بادل چھا گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا۔ دفاعی نظام کو متحرک کر کے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا، تاہم کچھ حملے اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک اس شدت کے ساتھ براہِ راست ایک دوسرے کے مدمقابل آئے ہیں، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی حالیہ واقعات کا تسلسل ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کرتے آ رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور معیشت پر منفی اثرات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔







