اعتزاز حسن — ایک عظیم ہیرو کی کہانی

پاکستان کے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے ایک چھوٹے سے گاؤں ابراہیم زئی میں ایک بہادر لڑکا رہتا تھا جس کا نام اعتزاز حسن تھا۔ وہ ایک عام سا پندرہ سالہ طالب علم تھا، جو ہر روز اپنے اسکول جاتا، دوستوں کے ساتھ کھیلتا، خواب دیکھتا، اور ایک روشن مستقبل کی امید رکھتا تھا۔ لیکن 6 جنوری 2014 کا دن نہ صرف اس کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش دن بن گیا۔اس دن اعتزاز اسکول دیر سے پہنچا، جس کی وجہ سے اسے اسکول کے باہر کھڑا ہونے کی سزا دی گئی۔ وہ اسکول کے دروازے کے قریب موجود تھا جب اس کی نظر ایک مشکوک شخص پر پڑی۔ وہ شخص اسکول کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا اور اس کی حرکات غیر معمولی تھیں۔ اعتزاز نے فوراً محسوس کر لیا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔

جب اس مشکوک شخص کو روکا گیا تو پتہ چلا کہ وہ ایک خودکش حملہ آور ہے، جو اسکول میں داخل ہو کر سینکڑوں معصوم طلبہ کی جان لینا چاہتا تھا۔ اعتزاز کے اسکول میں اس وقت تقریباً دو ہزار بچے موجود تھے۔ وہ شخص اگر اسکول کے اندر داخل ہو جاتا تو ایک بڑا سانحہ پیش آ سکتا تھا۔لیکن اعتزاز نے پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو پیچھے ہٹنے کو کہا اور خود آگے بڑھ کر اس خودکش حملہ آور کو روکنے کے لیے اس پر جھپٹ پڑا۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا — اور اعتزاز حسن موقع پر ہی شہید ہو گیا۔

اعتزاز نے اپنی جان قربان کر کے اپنے اسکول کے سینکڑوں بچوں کی جانیں بچا لیں۔ اس کی قربانی نے نہ صرف ہنگو کے عوام بلکہ پوری پاکستانی قوم کو فخر سے سر بلند کرنے کا موقع دیا۔ اعتزاز کو ’قومی ہیرو‘ قرار دیا گیا۔ اس کی شجاعت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے اسے “ستارۂ شجاعت” سے نوازا — جو ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔اس کے اسکول کا نام تبدیل کر کے اعتزاز حسن شہید ہائی اسکول رکھ دیا گیا، اور ایک اسپورٹس اسٹیڈیم بھی اس کے نام سے منسوب کیا گیا۔

اعتزاز کی قربانی کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اسے “پاکستان کا نوجوان ہیرو” قرار دیا۔ اس کی زندگی پر مبنی ایک فلم “سلام” (Salute) بھی بنائی گئی، جس میں دکھایا گیا کہ کیسے ایک عام سا لڑکا غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کر کے امر ہو گیا۔

اعتزاز کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:”میرے بیٹے نے اپنی جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک شہید کا باپ ہوں۔”یہ الفاظ کسی بھی والد کے لیے تکلیف دہ لیکن فخریہ جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اعتزاز کی والدہ، جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دیا، قوم کی ماں بن گئیں۔

اعتزاز ہمیشہ زندہ رہے گا.اعتزاز حسن ایک ایسا نام ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی ہیرو وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کی خاطر اپنی جان قربان کر دیں۔ وہ صرف ہنگو یا پاکستان کا ہیرو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا محافظ ہے۔جب بھی وطن پر کوئی آفت آئے گی، جب بھی دہشت گردی کی بات ہو گی، اعتزاز کا نام ہمیشہ جرأت و قربانی کی علامت بن کر یاد رکھا جائے گا۔اللہ اعتزاز حسن شہید کے درجات بلند کرے، اور ہمیں بھی ایسی ہمت اور جذبہ عطا فرمائے۔

“قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ بن جاتے ہیں — اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔ اعتزاز حسن ان ہی میں سے ایک ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں