پاکستان میں خون کی کمی یا انیمیا خواتین میں ایک نہایت عام مسئلہ ہے، خاص طور پر تولیدی عمر کی خواتین میں۔ تحقیق کے مطابق تقریباً ہر دوسری خاتون خون کی کمی کا شکار ہے، جو صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں غذائیت کی کمی، خاص طور پر آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامن B12 کی کمی، ماہواری کے دوران زیادہ خون کا بہنا، حاملہ خواتین میں خون کی کمی، اور بعض خواتین میں معدے یا آنتوں کی بیماریوں کی وجہ سے آئرن کے جذب میں کمی شامل ہیں۔ بعض خواتین میں خون کے جینیاتی یا دائمی امراض جیسے تھلیسیمیا یا ہیموگلوبین کی کمزوری بھی خون کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
خون کی کمی کی علامات میں جلد کا پیلا پڑ جانا، تھکن اور کمزوری، سانس لینے میں دشواری، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سر درد، چکر آنا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے شامل ہیں۔ بعض اوقات بالوں اور ناخنوں کی کمزوری بھی خون کی کمی کی نشانی ہوتی ہے۔ اس کا علاج بروقت شروع کرنا نہایت ضروری ہے، جس میں آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامن B12 کی سپلیمنٹس، غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے گوشت، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں، انڈے اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ حاملہ خواتین کے لیے پری نٹل چیک اپ کے دوران آئرن اور فولک ایسڈ کی گولیاں دی جاتی ہیں تاکہ خون کی کمی کو روکا جا سکے۔
خون کی کمی ایک عام مگر قابلِ علاج مسئلہ ہے، اور خواتین کو چاہیے کہ اپنی خوراک، طرزِ زندگی اور ڈاکٹر کی ہدایات پر بھرپور عمل کریں تاکہ یہ مسئلہ قابو میں رہے اور وہ صحت مند زندگی گزار سکیں۔ بروقت آگاہی اور علاج نہ صرف صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں توانائی اور کارکردگی کو بھی بڑھاتا ہے۔







