کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ فارمیسی کے طلبا نے ایک جدید اور منفرد چشمہ تیار کیا ہے جسے “اینٹی ڈپریسنٹ گوگلز” کہا جاتا ہے۔ اس چشمے کا مقصد ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور اینزائیٹی کے شکار افراد کے لیے ایک سہل اور معاون طریقہ فراہم کرنا ہے۔ اس چشمے میں جدید ٹیکنالوجی کے تحت نیلی روشنی (Blue Light) کا استعمال کیا گیا ہے، جو اعصابی نظام کو سکون دینے اور موڈ بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ روشنی جسم کے اندر سیروٹونن ہارمون کی سطح کو متوازن کرنے میں معاون ہے، جو خوشی اور سکون کے احساسات پیدا کرتا ہے۔
اس چشمے میں آڈیو سسٹم بھی شامل ہے، جس کے ذریعے صارف سکون بخش موسیقی یا نیچر ساؤنڈز سن سکتا ہے، تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو اور نیند بہتر ہو۔ مزید برآں، اس میں اروما تھراپی فیچر بھی موجود ہے، جس میں لیونڈر اور دیگر خوشبو والے آئلز استعمال کیے گئے ہیں، جو آرام اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتے ہیں۔ ابتدائی ٹیسٹ کے مطابق، چشمے کے استعمال سے صارفین کے مزاج میں واضح بہتری دیکھی گئی اور نیند کے دورانیے میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہوا۔
اس چشمے کی قیمت تقریباً 3,500 پاکستانی روپے رکھی گئی ہے اور بیٹری تقریباً دو دن تک چلتی ہے، جس سے روزمرہ کے استعمال میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایجاد نہ صرف طلبا کی تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ایک اہم قدم بھی ہے۔ تاہم، یہ چشمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور بڑے پیمانے پر استعمال یا تجارتی دستیابی سے قبل کلینیکل ٹرائلز اور ماہرین کی منظوری ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو ڈپریشن، بے خوابی اور اینزائیٹی جیسے مسائل کے لیے مزید مؤثر اور قابلِ بھروسہ بنایا جا سکتا ہے، اور یہ نوجوان محققین کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذریعے عملی حل فراہم کر سکتے ہیں۔







