نومبر 2025 تک بڑھا دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں جاری تحقیقات کا جائزہ لیا۔ قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مطابق عروب جتوئی، ان کے شوہر اور دیگر ملزمان بین الاقوامی جوئے کے ریکٹ کا حصہ ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی اور غیر قانونی ایپس کی تشہیر کر کے بھاری رقوم کما رہے تھے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر کیس کی مکمل پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے تاکہ عدالت کو تحقیقات کی تفصیلات معلوم ہوں اور فیصلہ سازی میں مدد ملے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عروب جتوئی کی آئندہ حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانونی کارروائی میں خلل نہ آئے۔
اس کیس میں ان کے شوہر، سعد الرحمن، کو پہلے ہی عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے جبکہ عروب جتوئی عبوری ضمانت پر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیس پاکستان میں سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ایک واضح مثال ہے، اور اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر جوئے اور مالی دھوکہ دہی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل جرائم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے اب زیادہ فعال ہو گئے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔







