ارشد ندیم نے 2025کے اسلامی یکجہتی کھیلوں میں اپنی غیر معمولی کارکردگی سے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بہترین جویلن تھرو ایتھلیٹس میں شمار ہوتے ہیں۔ ریاض میں ہونے والے اس بڑے بین الاقوامی مقابلے میں انہوں نے جویلن تھرو کے فائنل میں شاندار اعتماد اور بہترین فارم کے ساتھ حصہ لیا۔ ان کی دوسری کوشش میں کیا گیا 83.05 میٹر کا شاندار تھرو پورے مقابلے میں سب سے آگے رہا، جس نے نہ صرف انہیں 1 سونے کا تمغہ دلایا بلکہ پاکستان کو بھی عالمی سطح پر سرخرو کیا۔
مقابلے کے دوران ارشد ندیم کی کارکردگی انتہائی متوازن رہی—انہوں نے مختلف راؤنڈز میں 75.44 میٹر، 82.48 میٹر، 77.06 میٹر اور 77.98 میٹر کے مضبوط تھرو کیے۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انجری سے واپسی کے باوجود اپنی تکنیک اور فٹنس پر مکمل توجہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حیران کن طور پر وہ چند ماہ قبل سرجری اور بحالی کے مشکل مرحلے سے گزر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بین الاقوامی لیول پر نہ صرف کم بیک کیا بلکہ سونا بھی اپنے نام کیا۔
پاکستان کے لیے یہ اعزاز اس وقت مزید بڑھ گیا جب ارشد ندیم کے ساتھی یاسر سلطان نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 76.04 میٹر کی تھرو کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس طرح پاکستان نے جویلن تھرو میں ڈبل پوڈیم حاصل کرکے پوری دنیا میں اپنی صلاحیت اور ٹیلنٹ کا لوہا منوایا۔
ارشد ندیم کی اس فتح نے پاکستانی شائقینِ کھیل میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر کھیلوں کی تنظیموں تک ہر جگہ ان کے لیے مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان پر اعتماد بڑھایا ہے بلکہ پاکستان میں ایتھلیٹکس کے فروغ کے لیے بھی ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ ارشد ندیم کی یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ کسی بھی چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور وہ آنے والے بڑے مقابلوں میں بھی پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔







