اسکری بینک لمیٹڈ نے سال 2025 کے پہلے نو ماہ کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق بینک نے بعد از ٹیکس 18.2 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کی اسی مدت میں حاصل ہونے والے تقریباً 14.2 ارب روپے کے منافع کے مقابلے میں نمایاں 28 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ترقی پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملکی معیشت مہنگائی، بلند شرح سود اور مالیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
بینک کی جانب سے 1.25 روپے فی شیئر کا عبوری نقد منافع (Interim Cash Dividend) بھی اعلان کیا گیا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بینک کی نِٹ مارک اپ آمدنی (Net Mark-up Income) میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جو بنیادی طور پر قرضوں اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بہتری کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ، غیر مارک اپ آمدنی (Non-Markup Income) جیسے کہ فیس، کمیشن، ریمیٹنس اور سیکیورٹیز کی ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی نے بھی بینک کے منافع کو مضبوط بنایا۔
بینک کے مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکری بینک نے نہ صرف اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنایا بلکہ اخراجات پر بھی مؤثر کنٹرول رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ بینک نے ایک مشکل معاشی ماحول میں بھی اپنی کارکردگی کو برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک نے ڈیجیٹل بینکنگ، کارپوریٹ قرضہ جات اور ایس ایم ای فنانسنگ کے شعبوں میں بھی اچھی پیش رفت کی ہے، جس سے اس کے مالیاتی نتائج مزید بہتر ہوئے۔
اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی، قرضوں کے خطرات، اور معاشی غیر یقینی صورتحال جیسے عوامل بینکنگ سیکٹر کے منافع پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسکری بینک کا حالیہ مالیاتی ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ بینک مستحکم حکمتِ عملی اور محتاط مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔







