لاہور میں بسنت 2026 کے جشن کے سرکاری اعلان کے بعد شہریوں میں نئی رونق اور جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ یہ تقریب تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ باقاعدہ حکومتی اجازت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ حکومت نے 6 سے 8 فروری تک لاہور بھر میں بسنت کی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اسی وجہ سے اس بار تقریب کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے جس میں پولیس، ریسکیو اور انتظامی عملے کی اضافی تعیناتی شامل ہے۔
حکومت نے کیمیکل، دھاتی یا شیشہ لگی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی برقرار رکھتے ہوئے صرف معیاری اور محفوظ ڈور کی فروخت کو قانونی قرار دیا ہے، اور وہ بھی صرف رجسٹرڈ دکانوں سے۔ اس کے علاوہ پتنگ بازی مخصوص اوقات تک محدود رہے گی تاکہ حادثات کے امکانات کم ہوں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ عمارتوں کی چھتوں پر ریلنگ کی موجودگی کو بھی چیک کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت پنجاب کی ثقافت کی ایک اہم علامت رہی ہے، مگر ماضی میں پیش آنے والے حادثات کے باعث اسے روکنا پڑا تھا۔ اس بار سخت نگرانی اور واضح SOPs کے ساتھ بسنت کو محفوظ اور خوشگوار انداز میں منانے کی کوشش کی جائے گی۔ شہریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ قوانین کی پابندی کرکے اس تہوار کو خوشی، رنگ اور حفاظت کے ساتھ منائیں۔







