سندھ ہائی کورٹ نے ریچھ رانو کے حوالے سے اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے سندھ سے اسلام آباد کے وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کی فلاح و بہبود اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں متعلقہ ادارے لازمی طور پر بہتر انتظامات کریں۔ ریچھ رانو کو پہلے سندھ کے ایک مخصوص علاقہ میں رکھا گیا تھا، لیکن وہاں کے حالات اور سہولیات اس کی دیکھ بھال کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی تھیں۔ عدالت نے جانور کی صحت اور ماحولیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ اسے ایک ایسے مرکز میں منتقل کیا جائے جہاں اس کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے، اور جہاں قدرتی ماحول کے قریب حالات فراہم کیے جائیں۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ منتقلی کا عمل فوری، منظم اور محفوظ طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ ریچھ رانو کو کسی قسم کا ذہنی یا جسمانی نقصان نہ ہو۔ مزید برآں، عدالت نے جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے آگے بھی سخت اقدامات کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ ایسے جانوروں کی زندگی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس فیصلہ کو وائلڈ لائف کے حقوق اور ان کی بقاء کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان میں جانوروں کے بہتر تحفظ اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔







