بل گیٹس نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انتہائی اہم اور خبردار کرنے والی پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دس سالوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اتنی ترقی کر جائے گی کہ یہ ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر کئی پیشوں میں انسانوں کی جگہ لے لے گی۔ ان کے مطابق AI خودکار طریقے سے زیادہ تر کام انجام دینے کے قابل ہو جائے گا، چاہے وہ معیاری طبی مشورے دینا ہو، مریضوں کی تشخیص کرنا، یا تعلیمی شعبے میں طلباء کو بہترین تعلیم فراہم کرنا۔
بل گیٹس نے مزید کہا کہ اس AI انقلاب کے نتیجے میں دنیا کے کام کرنے کے انداز میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی۔ کام کے اوقات میں کمی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اور بعض شعبوں میں دو روزہ ورک ویک جیسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس تبدیلی کے ساتھ چیلنجز بھی سامنے آئیں گے، کیونکہ انسانوں کو اپنی مہارتوں کو اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ وہ AI کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں اور اپنے پیشے میں موجود رہ سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشگوئی نہ صرف ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور تعلیمی و طبی نظام میں بھی بڑی تبدیلیوں کی توقع ظاہر کرتی ہے۔ اس مستقبل میں انسانوں کو نئے شعبوں اور مہارتوں کی جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی، تاکہ وہ AI کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے قابل رہیں۔ یہ دور یقینی طور پر نئے مواقع پیدا کرے گا، لیکن چیلنجز اور محتاط منصوبہ بندی بھی اس کے ساتھ لازم ہیں۔







