برطانوی ماہرِ حیاتیات کی جانب سے دریائے گنگا کے پانی پر کیے گئے تفصیلی سائنسی ٹیسٹ میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ گنگا کا پانی بڑی مقدار میں انسانی فضلے (ہیومن ویسٹ) سے آلودہ ہے۔ ماہر کے مطابق پانی کے نمونوں میں ایسے خطرناک بیکٹیریا، وائرس اور جراثیم پائے گئے جو عام طور پر سیوریج کے پانی میں موجود ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاکھوں افراد کی آبادی کا گھریلو گندا پانی، صنعتی فضلہ، اسپتالوں کا کچرا اور مذہبی رسومات کے دوران بہائی جانے والی باقیات بلا روک ٹوک دریا میں شامل ہو رہی ہیں۔
ماہرِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ گنگا کو مقدس دریا سمجھتے ہوئے اس میں نہانا یا پانی پینا سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، جن میں جلدی امراض، معدے کی بیماریاں، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض شامل ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے بھارتی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کی صفائی کے دعوؤں کو عملی شکل دی جائے اور سیوریج کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر گنگا کی آلودگی پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ نہ صرف انسانی صحت بلکہ آبی حیات اور پورے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گی۔







