گاڑی کی ملکیت میں تاخیر — ایک سنگین قانونی غفلت

جب کوئی شخص گاڑی خریدتا ہے تو سب سے پہلا اور اہم قانونی قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ گاڑی اپنی ملکیت میں منتقل کروائے، یعنی اسے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنے نام رجسٹر کروائے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ اس معاملے کو معمولی سمجھتے ہیں اور ملکیت کی منتقلی میں بلاوجہ تاخیر کرتے ہیں۔ یہی تاخیر آگے چل کر بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کے لیے ایک خاص مدت مقرر کی گئی ہے، جو عام طور پر 30 دن ہوتی ہے۔ اگر مقررہ وقت میں گاڑی اپنے نام منتقل نہ کروائی جائے تو ایک خاص رقم بطور جرمانہ عائد کی جاتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔

علاوہ ازیں، اگر گاڑی پر کوئی چالان، مقدمہ یا مجرمانہ سرگرمی ریکارڈ ہو جائے، تو اس وقت تک گاڑی کا پرانا مالک ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جب تک ملکیت کی منتقلی نہ ہو۔ اسی طرح، اگر آپ نے گاڑی خرید کر استعمال شروع کر دی لیکن وہ قانونی طور پر اب بھی پچھلے مالک کے نام ہے، تو کسی بھی حادثے یا ٹریفک خلاف ورزی کی صورت میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، نئے مالک کے لیے گاڑی کا سالانہ ٹوکن ٹیکس، فٹنس سرٹیفکیٹ، اور دیگر سرکاری دستاویزات کی تجدید میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ گاڑی کی خریداری کے فوراً بعد تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ قریبی ایکسائز آفس جا کر ملکیت کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا جائے۔ اس سے نہ صرف آپ قانونی طور پر محفوظ رہیں گے بلکہ کسی بھی غیر ضروری جرمانے یا عدالتی پیچیدگی سے بھی بچا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں