اکستان کے قدیم اور مشہور سیاحتی مقام چھانگا مانگا جنگل کو عارضی طور پر عوامی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگل کی ماحولیاتی حفاظت، جنگلی حیات کی بحالی، اور سیکیورٹی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ جنگل کو لاحق مختلف خطرات سے بچایا جا سکے۔
چھانگا مانگا دنیا کے بڑے مصنوعی جنگلات میں سے ایک ہے، جو صدیوں پرانا تاریخی اثاثہ ہے اور سیاحوں کے لیے پرکشش مقام بھی۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس جنگل کو غیر قانونی درختوں کی کٹائی، جنگلات میں لگنے والی آگ، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر آگ لگنے کے واقعات نے نہ صرف درختوں کو جلایا بلکہ جنگلی حیات کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس سے ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق، جنگل کے گرد 38 کلومیٹر طویل حفاظتی باڑ بنانے کا منصوبہ جاری ہے تاکہ غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے اور ماحول کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ جنگل کے اندر سیاحوں اور مقامی لوگوں کے داخلے کے لیے ایک منظم نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ نظم و ضبط قائم ہو اور قدرتی وسائل کا بہتر تحفظ ہو سکے۔ ان حفاظتی اقدامات کی وجہ سے عارضی طور پر عوام کے لیے جنگل کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اس بندش کو نہایت مثبت قدم قرار دے رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنگل کی بحالی اور تحفظ سے علاقے کی فضا صاف اور جنگلی حیات محفوظ ہو سکے گی۔ تاہم مقامی لوگ اور سیاح اس فیصلے پر مخلوط ردعمل دے رہے ہیں، کچھ لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں تو کچھ اس سے ناراض بھی ہیں کیونکہ اس سے ان کی تفریحی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
متعلقہ حکام نے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی حفاظتی اقدامات مکمل ہو جائیں گے اور جنگل کی حالت بہتر ہوگی، عوام کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس دوران جنگل کی حفاظت اور بحالی کے حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ عوام میں تحفظ کے شعور کو فروغ دیا جا سکے۔







