حکومتِ پنجاب نے کم عمری کی شادی کے خلاف ایک جامع اور سخت قانون سازی متعارف کرائی ہے تاکہ بچوں کے بنیادی حقوق اور فلاح و بہبود کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو غیر قانونی اور جرم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کم عمر بچوں کی شادی کروانے یا اس میں سہولت فراہم کرنے والے افراد کو تین سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جس سے معاشرے میں اس نقصان دہ روایت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ نکاح رجسٹرار یا دیگر اہلکار جو کم عمر بچوں کی شادی درج کریں گے، ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی اور ان کی خدمات معطل یا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون بچوں کی تعلیم، صحت اور عمومی فلاح کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ کم عمری میں شادی بچوں کے جسمانی، ذہنی اور تعلیمی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔
اس قانون کے نفاذ کا مقصد یہ بھی ہے کہ والدین اور معاشرتی حلقے کم عمر بچوں کی شادی کے رجحانات کو ترک کریں اور انہیں تعلیم اور تربیت کی طرف راغب کریں۔ حکومتِ پنجاب کی یہ قانونی اصلاحات بچوں کو محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کرنے کی ایک مضبوط کوشش ہیں اور یہ معاشرتی شعور میں تبدیلی لانے اور بچوں کی زندگیوں میں بہتری کے لیے اہم قدم تصور کی جاتی ہیں۔







