چین نے اپنی تاریخ میں پہلی بار کمرشل خلائی سیاحت پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت عام شہریوں کو خلا کی سیر کا موقع فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے فی ٹکٹ قیمت تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس خلائی سفر میں مسافروں کو زمین سے باہر مختصر قیام، بے وزنی کا تجربہ اور خلا سے زمین کے نظارے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ چین کی خلائی صنعت کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے چین نہ صرف عالمی خلائی سیاحت کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے بلکہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر یہ سہولت صرف صاحبِ استطاعت افراد کے لیے ہے، تاہم مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔







