پاکستان میں کزن میرج یعنی قریبی رشتہ داروں میں شادی کا رواج معاشرتی، ثقافتی اور خاندانی روایات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق ملک میں اندازاً 60 سے 70 فیصد تک شادیاں قریبی رشتہ داروں کے درمیان ہوتی ہیں، جن میں اکثریت پہلے کزنز کی ہوتی ہے۔ یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے، جس کی مثال بہت کم ممالک میں ملتی ہے۔ اس رجحان کو پاکستانی معاشرت میں ایک معمول کی بات سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں خاندان کے بزرگوں کی پسند اور خاندانی تعلقات کو برقرار رکھنا ترجیح دی جاتی ہے۔
ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی اہم وجوہات میں ثقافتی وابستگی، وراثت کا تحفظ، مالی اعتماد، خاندان کے اندر اتحاد برقرار رکھنا، اور والدین کی مرضیشامل ہیں۔ بہت سے خاندان اس سوچ پر عمل کرتے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی سے لڑکیوں کی حفاظت یقینی رہتی ہے اور خاندان کے اندر اعتماد قائم رہتا ہے۔ تاہم، دوسری جانب یہ روایت وقت کے ساتھ صحت عامہ کے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ماہرینِ طب کے مطابق قریبی رشتہ داروں میں شادی سے جینیاتی بیماریوں کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے افراد میں یکساں جینز ہونے کے باعث اگر والدین میں کوئی پوشیدہ جینیاتی نقص موجود ہو تو وہ اولاد میں ظاہر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں وراثتی امراض جیسے کہ دماغی کمزوری، دل کے نقائص، خون کی بیماریاں، اور پیدائشی نقائص کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں جینیاتی بیماریوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں صحت کے بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں کئی ماہرین اور تنظیمیں جینیاتی مشاورت (Genetic Counseling) کو فروغ دینے پر زور دے رہی ہیں تاکہ شادی سے پہلے جوڑے اپنے جینیاتی پس منظر سے آگاہ ہوں۔ کچھ اسپتالوں میں اب شادی سے قبل جینیاتی ٹیسٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، مگر عوام میں اس حوالے سے آگاہی ابھی بہت محدود ہے۔
اگرچہ دنیا بھر میں کچھ دیگر ممالک جیسے سعودی عرب، سوڈان، مصر اور افغانستان میں بھی قریبی رشتہ داروں کی شادیاں عام ہیں، مگر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں سب سے آگےیا سب سے اوپر کے ممالک میں شامل ہے۔ یہ رجحان پاکستانی معاشرے کا ایک نمایاں پہلو ہے جو اب ثقافتی روایت سے بڑھ کر صحت عامہ کے ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کے حل کے لیے تعلیم، آگاہی اور سائنسی شعور کی اشد ضرورت ہے۔







