پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت ایک عرصے سے بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، اور اگرچہ اسٹیٹ بینک نے 2018 سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے روکے رکھا ہے، مگر بدلتے ہوئے عالمی مالیاتی رجحانات کے بعد حکومت نے اس شعبے کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کی جانب پیش رفت شروع کر دی ہے۔ 2025 میں حکومت نے “ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی” کے قیام کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کیا، جس کا مقصد کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس دینا، ان کی نگرانی کرنا، سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کو سخت بنانا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، کرپٹو کرنسی کو قانونی درجہ دینے کے لیے ضروری ہے کہ مالیاتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ غیر قانونی سرمایہ کاری، ٹیکس چوری اور دھوکہ دہی کے امکانات کم سے کم ہو جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی مکمل قانونی حیثیت کا انحصار ریگولیٹری فریم ورک کی تکمیل، اسٹیٹ بینک کی پالیسی، اور ٹیکس قوانین میں تبدیلیوں پر ہوگا۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2026 کے وسط یا آخر تک کریپٹو کرنسی کو محدود اور منظم شکل میں قانونی اجازت مل سکتی ہے۔ تاہم، حکومت اب بھی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، کیونکہ کرپٹو کے فوائد کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں—جیسے سرمایہ کاری کا شدید اتار چڑھاؤ، سائبر فراڈ، اور غیر قانونی ترسیلاتِ زر کا خطرہ۔ اس کے باوجود، بڑھتی ہوئی عالمی اپنائیت اور نوجوان نسل کی سرمایہ کاری کے رجحان کو دیکھتے ہوئے واضح ہے کہ پاکستان میں کرپٹو مستقبل قریب میں کسی نہ کسی شکل میں قانونی اور ریگولیٹڈ مالیاتی اثاثہ بننے جا رہی ہے۔







