پاکستان میں سرمایہ کاری کے رجحانات میں ایک واضح اور حیران کن فرق سامنے آیا ہے، جہاں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ بتائی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی تعداد اب بھی 5 لاکھ سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، کیونکہ اس میں سرمایہ کاری موبائل ایپس کے ذریعے آسانی سے کی جا سکتی ہے، کم رقم سے آغاز ممکن ہے اور فوری منافع کی توقع بھی لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔
دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ کو عام طور پر پیچیدہ، طویل المدتی اور محدود معلومات پر مبنی سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث عام شہری اس سے ہچکچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مالیاتی تعلیم کی کمی، بروکریج اکاؤنٹس کھلوانے کے پیچیدہ مراحل اور مارکیٹ میں عدم اعتماد بھی اسٹاک مارکیٹ میں کم شمولیت کی وجوہات میں شامل ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور متبادل سرمایہ کاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں، اس لیے واضح ضابطہ کاری اور عوامی آگاہی نہایت ضروری ہے۔ اگر حکومت اسٹاک مارکیٹ کو سادہ، شفاف اور عوام دوست بنانے کے اقدامات کرے تو روایتی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے، جو ملکی معیشت کے لیے طویل المدتی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔







