ہمارے معاشرے میں کزن میرج ایک مضبوط سماجی روایت کے طور پر موجود ہے۔ خاندان میں شادی کو اعتماد، ہم آہنگی اور رشتوں کے استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ بچہ یا بچی جان پہچان والے گھر میں جا رہے ہیں، جہاں اقدار، مزاج اور طرزِ زندگی پہلے سے معلوم ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق نے اس روایت کے کچھ ایسے پہلو بھی اجاگر کیے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق قریبی رشتہ داروں میں شادی سے جینیاتی بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں خاندان میں پہلے سے کوئی موروثی مرض موجود ہو۔ تھیلیسیمیا، بعض پیدائشی نقائص اور بچوں میں کمزور قوتِ مدافعت جیسے مسائل اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر کزن میرج نقصان دہ ہوتی ہے، مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس موضوع پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اکثر فیصلے جذبات، دباؤ یا روایت کی بنیاد پر کر لیے جاتے ہیں، جبکہ سائنسی حقائق کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بعض خاندان نسل در نسل صحت کے مسائل کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم روایت اور عقل کے درمیان توازن پیدا کریں۔
شادی سے پہلے جینیاتی اسکریننگ اور تھیلیسیمیا جیسے بنیادی ٹیسٹ کسی بداعتمادی کی علامت نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ قدم ہیں۔ آگاہی، احتیاط اور بروقت فیصلہ ہی آنے والی نسلوں کو صحت مند مستقبل دے سکتا ہے۔ کزن میرج ہو یا خاندان سے باہر شادی، اصل اہمیت شعور، معلومات اور ذمہ داری کی ہے—کیونکہ مضبوط خاندان وہی ہوتا ہے جو صرف رشتوں ہی نہیں، صحت کا بھی خیال رکھتا ہو۔







