ڈی بی کوپر کا واقعہ دنیا کی تاریخ کا سب سے حیران کن اور پُراسرار ہوائی اغوا ہے، جس کی گتھی آج تک مکمل طور پر سلجھ نہیں سکی۔ یہ واقعہ 24 نومبر 1971 کو پیش آیا، جب ایک شخص، جس نے اپنا نام “ڈین کوپر” بتایا، نارتھ ویسٹ اورینٹ ایئر لائن کی پرواز نمبر 305 میں سوار ہوا، جو پورٹ لینڈ سے سیئیٹل جا رہی تھی۔ وہ ایک مکمل طور پر عام نظر آنے والا، درمیانی عمر کا شخص تھا، جس نے سیاہ سوٹ، ٹائی اور دھوپ کے چشمے پہن رکھے تھے۔ پرواز کے کچھ دیر بعد اس نے ایئر ہوسٹس کو ایک پرچی دی جس میں لکھا تھا کہ “میرے پاس بم ہے”، اور پھر اس نے بریف کیس کو کھول کر واقعی بم جیسا آلہ دکھایا۔ اس نے پائلٹ کو پیغام بھیجا کہ اگر اسے $200,000 نقد، چار پیراشوٹ اور جہاز کے دوبارہ اڑنے کی اجازت نہ دی گئی، تو وہ جہاز کو تباہ کر دے گا۔ حکام نے اس کی بات مان لی، کیونکہ مسافروں کی جان بچانا اولین ترجیح تھی۔ جب جہاز سیئیٹل پہنچا تو تمام مسافروں کو اتار دیا گیا، کوپر کو رقم اور پیراشوٹ دے دیے گئے، اور عملے سمیت جہاز دوبارہ میکسیکو کی طرف روانہ ہوا۔ فلائٹ کے دوران، واشنگٹن ریاست کے اوپر پرواز کرتے ہوئے، کوپر نے پچھلا دروازہ کھولا اور پیراشوٹ پہن کر اندھیرے، بارش اور شدید سردی میں چھلانگ لگا دی — اپنے ساتھ تمام رقم لے کر۔ اس کے بعد نہ وہ کبھی دوبارہ دیکھا گیا، نہ اس کی لاش ملی، نہ رقم، اور نہ ہی اس کی شناخت معلوم ہو سکی۔ صرف 1980 میں ایک بچہ دریا کنارے کھیلتے ہوئے تاوان کی رقم کے کچھ نوٹ لے آیا، لیکن اس سے آگے کوئی سراغ نہ ملا۔ ایف بی آئی نے اس کیس پر 45 سال تک کام کیا، ہزاروں افراد سے تفتیش کی، سینکڑوں مشتبہ افراد کو پرکھا، لیکن کوئی بھی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا، اور آخرکار 2016 میں اس کیس کو باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا۔ ڈی بی کوپر کا یہ واقعہ آج بھی ایک ایسا راز ہے جو پولیس، محققین، اور عام لوگوں کے ذہنوں میں سوال بن کر موجود ہے: کیا وہ بچ گیا؟ اگر ہاں، تو کہاں گیا؟ اور اگر نہیں، تو اس کی باقیات کیوں نہیں ملیں؟ اس کہانی نے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا مقام بنا لیا ہے۔
ایک شخص، ایک چھلانگ، اور ہمیشہ کے لیے غائب — ڈی بی کوپر کا ناقابلِ حل راز!
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







