ڈینگی کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا، شہریوں کو سخت احتیاط کی ہدایت

ڈینگی کے بڑھتے ہوئے خطرے نے صحت کے ماہرین اور حکومتی اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کے لیے موجودہ موسمی حالات نہایت موافق بنتے جا رہے ہیں۔ درجۂ حرارت میں معمولی اضافہ اور نمی کی سطح برقرار رہنے کی وجہ سے ایڈیِس ایجپٹائی نامی مچھر کی افزائش میں تیزی آئی ہے، جو ڈینگی کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بارشوں کے بعد گلی محلوں، گھروں کی چھتوں، گملوں، فریج کے ٹرے، ٹائروں اور پلاسٹک کے ڈبوں میں کھڑا ہونے والا پانی مچھروں کے انڈے دینے کے لیے بہترین جگہ بن جاتا ہے اور یہی پانی بیماری کو تیزی سے پھیلانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام میں گھریلو احتیاطیں انتہائی اہم ہیں۔ شہری اگر ہفتے میں ایک بار اپنے گھروں اور اطراف میں کھڑے پانی کو خشک کریں، پانی کی ٹینکیاں ڈھانپ کر رکھیں، کوڑا کرکٹ فوری ٹھکانے لگائیں، اور مچھر بھگانے والے اسپرے یا لوشن کا باقاعدگی سے استعمال کریں تو بیماری کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر مچھروں سے بچانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ دونوں عمر کے لوگ زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کسی شخص میں تیز بخار، سر اور جوڑوں کا شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، متلی، قے یا جسم پر سرخ دھبے ظاہر ہوں تو اسے فوراً ڈینگی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ علامتوں کو نظر انداز کرنے سے بیماری بگڑ سکتی ہے، جبکہ بروقت علاج مریض کی صحت بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں