ڈنمارک میں عوامی مقامات پر برقعہ اور نقاب پر پابندی برقرار

ڈنمارک میں عوامی مقامات پر برقعہ اور نقاب جیسی مکمل چہرہ ڈھانپنے والی پوشاک پر پابندی کوئی نیا فیصلہ نہیں بلکہ یہ قانون 2018 سے نافذ ہے، جس کے تحت چہرہ چھپانے پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس معاملے نے ایک بار پھر اس وقت توجہ حاصل کی جب ڈنمارک کی حکومت نے اس پابندی کو اسکولوں اور جامعات تک بڑھانے کی تجویز دی، جس کا مقصد حکومتی مؤقف کے مطابق سماجی ہم آہنگی، شناخت اور تعلیمی ماحول میں مؤثر رابطہ قائم رکھنا ہے۔ اس پس منظر میں بعض بین الاقوامی اور سوشل میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملکی ثقافت کو اپنائیں یا ملک چھوڑ دیں، تاہم اس نوعیت کا کوئی واضح اور باضابطہ سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ ڈنمارک حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے بجائے عوامی زندگی میں یکساں اصولوں کے نفاذ کے لیے ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کی جانب سے اس قانون کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر ڈنمارک میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث جاری ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں