پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط میں حالیہ دنوں ایک انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان سے چین کو سمندری خوراک (Seafood) کی برآمدات میں نمایاں اور ریکارڈ سطح کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف اقتصادی ترقی کی علامت ہے بلکہ ماہی گیری کے شعبے میں موجود امکانات اور صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اس پیش رفت میں خاص طور پر مچھلی، جھینگے، کیکڑے اور دیگر آبی حیات پر مشتمل خوراک شامل ہے، جن کی چین میں مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس برآمدی اضافے کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ چین میں تازہ اور معیاری سمندری خوراک کی طلب میں اضافہ ہے، جہاں شہریوں کا رجحان صحت بخش غذا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری بڑی وجہ پاکستان میں کولڈ چین، پروسیسنگ، اور فریزر اسٹوریج کی سہولیات میں بتدریج بہتری ہے، جس کے باعث برآمدی اشیاء زیادہ دیر تک تازہ اور محفوظ رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ماہی گیری کے شعبے میں دی جانے والی سہولتیں، سبسڈیز، اور برآمدی مراعات بھی برآمدات میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدوں (Free Trade Agreements) نے بھی اس بڑھتی ہوئی تجارت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب پاکستانی ایکسپورٹرز کو چین کی منڈیوں تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہو گئی ہے، جہاں انہیں کم یا صفر ٹیرف پر اشیاء بھیجنے کی سہولت میسر ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھول سکتی ہے۔ ایک طرف جہاں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ماہی گیر برادری، پروسیسنگ یونٹس، اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر سندھ، بلوچستان اور ساحلی علاقوں کے مقامی لوگ اس ترقی سے براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔
تاہم، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اس رفتار کو برقرار رکھنا ہے تو حکومت کو چند اہم اقدامات کرنا ہوں گے، جیسے کہ پائیدار ماہی گیری کے طریقے اپنانا تاکہ سمندری حیات کو خطرات سے بچایا جا سکے، برآمدی معیار (quality control) پر سختی سے عمل کرنا، اور جدید ٹیکنالوجی کو عام کرنا تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ماہی گیر بھی عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے چین کو سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ نہ صرف اقتصادی بہتری کی نوید ہے بلکہ یہ ایک موقع ہے کہ ملک ماہی گیری کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر عالمی تجارت میں مضبوط کردار ادا کرے۔







