17 لاکھ پاکستانیوں نے ٹیکس گوشواروں میں صفر آمدنی ظاہر کی

پاکستان میں حال ہی میں انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جہاں 17 لاکھ سے زائد شہریوں نے اپنی قابل ٹیکس آمدنی صفر ظاہر کی ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق، 2025 کے دوران جمع کروائے گئے 55 لاکھ سے زائد ٹیکس گوشواروں میں تقریباً ایک تہائی میں آمدنی صفر رپورٹ کی گئی، جو ملک میں ٹیکس کے نظام میں موجود گہرے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں؛ بہت سے شہری مہنگی گاڑیاں، لگژری گھروں میں رہائش، برانڈڈ سامان کی خریداری اور بیرون ملک سفر جیسی سہولیات استعمال کرتے ہیں، مگر اپنے گوشواروں میں آمدنی چھپاتے ہیں یا صفر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف ٹیکس کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے کیونکہ حکومت کی آمدنی میں کمی ملکی ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات پر اثر ڈالتی ہے۔

FBR نے اس صورتحال کے سدباب کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ٹیکس گوشواروں کی سخت جانچ پڑتال اور آڈٹس کے ذریعے جعلی یا کم ظاہر کی گئی آمدنی کا پتہ لگایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، FBR نے ایک “لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل” قائم کیا ہے جو سوشل میڈیا پر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے افراد کی نگرانی کرے گا تاکہ گوشواروں میں ظاہر کی گئی آمدنی اور حقیقی زندگی کے معیار میں تضاد معلوم ہو سکے۔ مزید برآں، ٹیکس چوری کی اطلاع دینے والوں کے لیے انعامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ شہری خود اس عمل میں مددگار بنیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو نہ صرف پاکستان کی ٹیکس کی بنیاد کمزور ہو گی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ ملکی معیشت کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کی جائیں، شفافیت کو فروغ دیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو ٹیکس چوری اور آمدنی چھپانے کو روک سکیں۔ اس کے بغیر حکومت کے وسائل محدود رہیں گے اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں