ایف بی آر پہلی ششماہی میں ٹیکس اہداف حاصل نہ کر سکا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکس وصولیوں کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں 33 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاشی سست روی، درآمدات میں نمایاں کمی، صنعتی پیداوار میں جمود اور کاروباری سرگرمیوں کے محدود ہونے جیسے عوامل نے ٹیکس وصولیوں کو بری طرح متاثر کیا۔ مہنگائی اور عوام کی کمزور قوتِ خرید کے باعث بھی کھپت میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کا براہِ راست اثر ٹیکس آمدن پر پڑا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شارٹ فال کے باعث حکومت کو بجٹ خسارے میں اضافے، ترقیاتی منصوبوں میں ممکنہ کٹوتی اور مزید قرضوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اگرچہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے، ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے اور نان فائلرز کے خلاف اقدامات کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عملی طور پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق جب تک ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات، شفافیت اور کاروبار دوست پالیسیاں نافذ نہیں کی جاتیں، ٹیکس اہداف کا حصول ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں