سعودی عرب میں عمرہ کے نام پر لوگوں سے بھیک منگوانے والے گروہوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان گروہوں کے کارندے پاکستان میں غریب اور سادہ لوح افراد کو عمرہ کا لالچ دے کر بھیک مانگنے کے لیے سعودی عرب بھیجتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، یہ ایجنٹس متاثرہ افراد سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں مفت یا کم خرچ میں عمرہ کروائیں گے، مگر وہاں پہنچنے کے بعد ان سے بھیک منگوا کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے کی تیاری میں تھے، لیکن تفتیش سے پتا چلا کہ ان کا اصل مقصد بھیک مانگنا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کراچی، لاہور اور ملتان ائیرپورٹس پر متعدد ایسے مسافروں کو حراست میں لیا ہے جنہیں ایجنٹس نے دھوکے سے اس غیر قانونی کام کے لیے تیار کیا تھا۔ سعودی حکام نے بھی عمرہ ویزے کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں ملک بدر کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت عمرہ زائرین کو گروپ کی صورت میں سفر کرنے اور اپنی شناختی و مالی تفصیلات فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان منفی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو نہ صرف مذہبی مقاصد کو بدنام کرتی ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔







