مہنگائی کی نئی لہر، آٹا عام آدمی کی پہنچ سے دور

ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافے نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اس بنیادی غذائی شے کی قیمت بڑھنے سے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہیں، ایسے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

دکانداروں اور فلور مل مالکان کے مطابق گندم کی قیمت میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی سبسڈی کے فقدان کے باعث آٹا مہنگا ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں آٹے کی قلت کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں پر کنٹرول کرے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں