چار سال کے طویل انتظار کے بعد حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز کی بحالی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے مطابق یہ فیصلہ عوامی سہولت، بڑھتی ہوئی طلب اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے باعث کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں صارفین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو طویل عرصے سے اپنے گھروں، کاروباروں اور صنعتوں کے لیے گیس کنکشن کے منتظر تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے کنکشنز مرحلہ وار دیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں وہ تمام درخواستیں منظور کی جائیں گی جو گزشتہ چار برسوں سے زیرِ التوا تھیں، جبکہ اس کے بعد نئی درخواستوں کی منظوری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ گیس کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شفافیت، میرٹ اور تیز رفتار عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
چار سال قبل نئے کنکشنز پر پابندی قدرتی گیس کی قلت، سسٹم پر دباؤ، اور درآمدی گیس کی بلند قیمتوں کے باعث لگائی گئی تھی۔ تاہم اب حکومت نے بتایا ہے کہ متبادل ذرائع، بشمول ایل این جی (LNG) اور دیگر توانائی منصوبوں کے ذریعے، گیس کی دستیابی میں بہتری آئی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ ممکن ہوا ہے۔
وزارتِ توانائی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف عوامی سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتی شعبے میں سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، جو ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔







