گھی بنانے والی کمپنیوں کا یوٹیلیٹی اسٹورز سے 6.5 ارب روپے کی ادائیگی کا مطالبہ

پاکستان کی گھی اور تیل بنانے والی معروف کمپنیوں نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے 6.5 ارب روپے کے بقایاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے مسلسل یاد دہانیوں کے باوجود ان کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، جس کے باعث انہیں پیداواری اخراجات، خام مال کی خریداری اور فیکٹری آپریشنز برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یوٹیلیٹی اسٹورز کو فراہم کیے جانے والے گھی اور کوکنگ آئل کی بڑی مقدار کے بل تاحال ادا نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو نقدی کی کمی (cash flow crisis) کا سامنا ہے۔ گھی مینوفیکچررز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت یا یوٹیلیٹی اسٹورز انتظامیہ نے جلد ادائیگیاں نہ کیں تو وہ گھی اور آئل کی سپلائی عارضی طور پر معطل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل مالی دباؤ اور خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دوسری جانب، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے فنڈز کی فراہمی اور منظوریوں کے مراحل مکمل ہوتے ہی کمپنیوں کو رقوم ادا کر دی جائیں گی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ عوام کو اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے ادارہ اپنی مالی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر یہ تنازع جلد حل نہ ہوا تو ملک میں گھی اور تیل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف صارفین متاثر ہوں گے بلکہ قیمتوں میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ادائیگیوں کا عمل شفاف اور تیز بنانا چاہیے تاکہ ملک میں سپلائی چین متاثر نہ ہو اور گھی و تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں