پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 42 ہزار 800 روپے تک پہنچ گیا – عوام شدید متاثر

حالیہ دنوں میں پاکستان میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں فی تولہ سونا 4 لاکھ 42 ہزار 800 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ سونے کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔

سب سے بڑی وجہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت کا بڑھنا ہے، جہاں دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی، مہنگائی، اور سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری اہم وجہ پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ ہے، جس کے باعث درآمد شدہ اشیاء، بالخصوص سونا، مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں سونے کی مقامی طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر شادیوں کے سیزن اور مہنگائی کے باعث لوگ اسے سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے لگے ہیں۔ اس طلب و رسد کے عدم توازن نے بھی قیمت کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد پر لگائی گئی ڈیوٹیز یا ممکنہ پابندیاں بھی اس اضافہ کا ایک سبب بن سکتی ہیں۔اس صورتحال سے عام عوام، خاص طور پر شادی کی تیاری کرنے والے گھرانے، شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سونے کی خریداری اب ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر روپے کی قدر مزید کمزور ہوئی یا عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا ہوا تو آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم اگر معاشی حالات بہتر ہوئے اور روپے کو استحکام ملا تو سونے کی قیمت میں کچھ کمی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں