سونے کی قیمتوں کا مستقبل: کب تک رہے گا یہ اضافہ؟

سونے کی قیمتوں میں حالیہ ریکارڈ اضافہ عالمی اور ملکی معیشت میں مختلف پیچیدہ عوامل کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک اہم وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی یا افراط زر ہے، جس کی شرح دنیا بھر میں بلند ہوتی جا رہی ہے۔ جب افراط زر بڑھتا ہے تو سرمایہ کار روایتی محفوظ سرمایہ کاریوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور سونا ان میں سب سے زیادہ قابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ سونے کو اکثر مہنگائی کے خلاف ایک ہنڈیا (hedge) قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کی قیمتیں عام کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہتی ہیں۔

اسی طرح، امریکی ڈالر کی کمزوری بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ چونکہ سونا عام طور پر امریکی ڈالر میں ٹریڈ ہوتا ہے، جب ڈالر کی قدر کمزور ہوتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ سرمایہ کار دیگر کرنسیوں میں سونے کو زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔ مزید برآں، دنیا بھر میں جاری سیاسی اور جغرافیائی کشیدگیاں، جیسے کہ بین الاقوامی تنازعات اور اقتصادی عدم استحکام، سرمایہ کاروں کو سونا خریدنے پر مجبور کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے پیسوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

تاہم، یہ رجحان ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔ سونے کی قیمتوں کا انحصار مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر بھی ہوتا ہے، خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سود کی شرحوں میں تبدیلی پر۔ اگر فیڈرل ریزرو سود کی شرحیں بڑھاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو دوسرے مالی آلات جیسے بانڈز یا بینک ڈپازٹس سے زیادہ منافع ملے گا، جس کی وجہ سے سونے جیسی غیر منافع بخش سرمایہ کاری کی مانگ کم ہو جاتی ہے اور قیمتیں گر سکتی ہیں۔

اسی طرح اگر عالمی سطح پر سیاسی حالات میں بہتری آتی ہے اور افراط زر پر قابو پا لیا جاتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی بین الاقوامی قیمتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

لہٰذا، موجودہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ عموماً وقتی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور یہ کب تک جاری رہے گا، اس کا انحصار عالمی اقتصادی پالیسیوں، سیاسی حالات اور مالیاتی مارکیٹوں پر ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط رہیں، مارکیٹ کے رجحانات کو مسلسل مانیٹر کریں، اور اپنی سرمایہ کاری کو متنوع رکھیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ اگرچہ سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری ہے، لیکن کسی بھی مالی فیصلے سے پہلے مشورہ لینا دانشمندانہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں