لاہور اور گردونواح میں 48 لاکھ درخت لگانے کا بڑا گرین منصوبہ شروع

پنجاب حکومت نے لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں ایک وسیع ماحولیاتی بحالی منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت 48 لاکھ (4.8 ملین) درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ صوبے کے “گرین پنجاب پروگرام” اور قومی سطح کے “پلانٹ فار پاکستان” اقدام کا حصہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، درجہ حرارت میں اضافے، اور جنگلات کی کمی جیسے ماحولیاتی خطرات پر قابو پانا ہے۔

لاہور، جو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت نے شہر کے گرد گرین بیلٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں راوی کے کنارے، نہروں، سڑکوں، موٹرویز، اور شہری پارکوں کے اردگرد بڑے پیمانے پر درخت لگائے جا رہے ہیں۔ محکمۂ جنگلات کے مطابق، صرف راوی کے کنارے 144 ایکڑ رقبے پر ایک لاکھ سے زائد درخت لگا دیے گئے ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید لاکھوں پودے لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

یہ مہم ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔ درختوں سے نہ صرف فضا میں موجود زہریلے ذرات کم ہوں گے بلکہ شہر میں ٹھنڈک، چھاؤں، آکسیجن کی فراہمی اور قدرتی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اسموگ کے مسئلے میں کمی، درجہ حرارت میں توازن، اور شہریوں کی صحت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ صرف درخت لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال، آبپاشی، اور حفاظت کے لیے مستقل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ماضی میں کئی شجرکاری مہمات پودوں کی مناسب نگہداشت نہ ہونے کے باعث ناکام رہیں، لہٰذا اس بار حکومت نے مانیٹرنگ سسٹم، نگرانی ٹیمیں اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

عوامی سطح پر بھی شہریوں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ ہر فرد اپنے محلے، اسکول یا گھر کے باہر کم از کم ایک پودا لگائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ مہم کامیابی سے مکمل ہو گئی تو لاہور نہ صرف ایک بار پھر “شہرِ باغات” کے طور پر پہچانا جائے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، صحت مند اور پائیدار ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں