نئے ٹریفک قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستان میں ہیلمٹ کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ قوانین نافذ کیے گئے کہ موٹر سائیکل پر سوار ہر شخص کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے، جس کے نتیجے میں اچانک ہیلمٹ کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ تاہم مارکیٹ میں سپلائی محدود ہے، کئی دکانداروں کے پاس اسٹاک ختم ہو گیا اور تھوک فروش نئی ڈیلیوری روک چکے ہیں۔ نتیجتاً جو ہیلمٹ پہلے تقریباً 900 روپے میں دستیاب تھے، وہ اب 4,000 سے 5,000 روپے تک فروخت ہو رہے ہیں، جس سے عام شہری اور روزگار کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اس قیمت میں اضافے اور قلت کے باعث کئی لوگ یا تو غیر معیاری ہیلمٹ خریدنے پر مجبور ہیں یا سڑک پر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ سستے ہیلمٹ جو 1,200 سے 2,200 روپے میں دستیاب ہیں، ان کا معیار شک کے قابل ہے اور چند ہفتوں میں خراب بھی ہو جاتے ہیں۔ طلبہ، مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے یہ اضافی خرچ بوجھ بن گیا ہے، کیونکہ ان کی آمدنی محدود ہے اور روزمرہ نقل و حمل کے لیے ہیلمٹ لازمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر ہیلمٹ کی پیداوار بڑھانے، درآمدات آسان کرنے یا سستے ہیلمٹ کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات نہ کرے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ عوام اور میڈیا کی جانب سے اس مسئلے پر توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور سب کے لیے معیار اور دستیابی برقرار رہے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نئے قوانین کے نفاذ کے ساتھ صارفین کے تحفظ، مارکیٹ ریگولیشن اور معیار کی نگرانی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ قوانین کے فائدے سب کے لیے یکساں اور محفوظ ہوں۔







