پنجاب میں موٹر سائیکل ہیلمٹس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

پنجاب میں موٹر سائیکل ہیلمٹس کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس نے عام شہریوں کے لیے نہ صرف مالی بوجھ بڑھا دیا ہے بلکہ حفاظت کے معاملے میں بھی کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دینے اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ نافذ کرنے کے بعد مارکیٹ میں طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا، لیکن سپلائی محدود رہی، جس کے باعث ہیلمٹس کی قلت پیدا ہوگئی۔ دکانداروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں بڑھا دیں، جس کی وجہ سے عام ہیلمٹس جو پہلے تقریباً ایک ہزار روپے میں دستیاب ہوتے تھے، اب چار سے پانچ ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

مزید برآں، کچھ دکاندار پرانے یا مرمت شدہ ہیلمٹس کو نئے جیسا دکھا کر مہنگے داموں بیچ رہے ہیں، جس سے ہیلمٹ کی حفاظت کے معیار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں خوف و تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ وہ یا تو زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں یا بغیر ہیلمٹ کے سڑکوں پر نکلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ عوامی شکوہ یہ ہے کہ حکومت نے قانون تو سخت کر دیا، مگر ہیلمٹ کی مناسب دستیابی اور عوامی قیمت کو یقینی بنانے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف شہریوں پر مالی بوجھ بڑھا بلکہ سڑکوں پر حفاظتی خطرات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں