پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور ٹک ٹاک انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی مواد کے خلاف فوری، سنجیدہ اور مؤثر کارروائی کریں۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹک ٹاک پر موجود بہت سا مواد نوجوان نسل کے ذہنوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے ان کی سوچ، طرزِ زندگی اور معاشرتی ذمہ داریوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس کی آڑ میں آزادیِ اظہار کے نام پر ایسا مواد پھیلانا ناقابلِ قبول ہے جو اسلامی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچائے۔ عدالت نے PTA کو حکم دیا کہ وہ نہ صرف ٹک ٹاک بلکہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے، خلاف ورزی کرنے والے افراد اور اکاؤنٹس کے خلاف سخت ایکشن لے اور ایسا نظام بنائے جس سے مستقبل میں اس قسم کا مواد فوری طور پر فلٹر ہوجائے۔
ٹک ٹاک انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ پاکستان کے قوانین کے مطابق اپنا مواد فلٹرنگ سسٹم مزید سخت کرے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور ایسے ٹرینڈز کو روکنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے، اور ان کی تربیت اور اخلاقی تحفظ ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔







