دیسی گھریلو ٹوٹکے: حقیقت یا مفروضہ؟

برصغیر پاک و ہند کی ثقافت میں دیسی ٹوٹکوں کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ہماری نانی، دادی اور بڑی عمر کی خواتین اکثر چھوٹی موٹی بیماریوں یا روزمرہ کی تکالیف کے لیے مختلف گھریلو نسخے بتاتی تھیں۔ جیسے نزلہ ہو تو شہد اور ادرک، بخار ہو تو کالی مرچ اور شہد، یا جلد پر دانے نکل آئیں تو ہلدی اور بیسن کا استعمال۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دیسی ٹوٹکے واقعی مؤثر ہوتے ہیں، یا محض صدیوں پرانے مفروضے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دیسی ٹوٹکے سائنسی بنیاد رکھتے ہیں، کیونکہ جڑی بوٹیوں، مصالحوں اور قدرتی اجزاء میں واقعی شفا بخش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ادرک ایک قدرتی اینٹی انفلیمٹری دوا ہے، شہد اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے، ہلدی میں موجود “کرکیومن” سوزش کم کرتا ہے، اور لہسن دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ہے۔ یہ تمام چیزیں اب جدید سائنسی تحقیقات میں بھی تسلیم کی جا رہی ہیں۔

لیکن ہر ٹوٹکا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے نسخے بھی ہیں جو بغیر تحقیق کے صرف روایت کے طور پر چلتے آ رہے ہیں، مثلاً سانپ کے کاٹے پر لہسن رگڑنا یا بخار میں دہی بند کر دینا — یہ وہ باتیں ہیں جن کی کوئی طبی بنیاد نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات یہ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے ٹوٹکوں کو ڈاکٹری علاج پر ترجیح دیتے ہیں، جو خطرناک ہو سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیسی ٹوٹکوں کو سائنسی نقطہ نظر سے جانچا جائے۔ اگر کوئی نسخہ واقعتاً فائدہ مند ہے، تو اس پر تحقیق ہونی چاہیے اور اگر کوئی نسخہ محض قیاس یا نقصان دہ ہو تو اسے ترک کر دینا چاہیے۔ اس معاملے میں عوام کو شعور دینا اور سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات کی روک تھام بھی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں