پاکستان نے معاشی شفافیت اور اچھی حکمرانی کی سمت ایک بڑا اور مؤثر قدم اٹھاتے ہوئے آئی ایم ایف کی اہم شرط کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایف بی آر نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام سرکاری افسران کو اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنے کا پابند بنایا ہے، جس سے حکومتی اداروں میں جوابدہی کا نظام مضبوط ہوگا۔ ماضی میں سرکاری افسران کے مالی معاملات اکثر پردے میں رہتے تھے، جس کا نتیجہ بدعنوانی، غیر شفاف پالیسی سازی اور غیرقانونی دولت کے جمع ہونے کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ اب افسران کو نہ صرف اپنی ملکیتی جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس، سونے، گاڑیوں اور کاروباری دلچسپیوں کی تفصیل دینا ہوگی بلکہ بیرونِ ملک موجود پلاٹ، سرمایہ کاری یا اکاؤنٹس بھی چھپائے نہیں جا سکیں گے۔
اس فیصلے کا اہم پہلو یہ ہے کہ افسران کو اپنے شریکِ حیات اور بچوں کے مالی اثاثے بھی بیان کرنا ہوں گے، تاکہ ’’بے نامی‘‘ اور خفیہ دولت رکھنے کا راستہ بند ہو۔ ایف بی آر نے اثاثے جمع کرانے کے لیے ایک آن لائن سسٹم فعال کیا ہے جو ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق غلط معلومات دینے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی جس میں معطلی، جرمانے اور ملازمت سے برطرفی تک شامل ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام آئی ایم ایف کی اُن مالیاتی اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد پاکستان کے ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا، بدعنوانی کم کرنا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس فیصلے پر مستقل مزاجی سے عمل کیا گیا تو یہ نہ صرف حکومتی کارکردگی میں بہتری لائے گا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی ساکھ کو بھی مضبوط کرے گا۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اصل شفافیت تب ممکن ہوگی جب وزراء، مشیران اور بڑے حکومتی عہدے دار بھی اسی معیار پر اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ پاکستان کے مالیاتی مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔







