ایران کا یورپی ممالک کو سخت انتباہ میزائل صلاحیت پر حملہ ہوا تو اسے اقدامِ جنگ سمجھا جائے گا

ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان ممالک نے ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے کے لیے کسی قسم کی فوجی یا دفاعی کارروائی کی تو اسے براہِ راست اقدامِ جنگ تصور کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی میزائل طاقت قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے، اور اس پر حملہ ایران کی خودمختاری پر حملے کے مترادف ہوگا۔

ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک کو کسی بھی ممکنہ فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صورتحال ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مفادات، اتحادیوں یا فوجی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ دفاعی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر کسی ملک کی فوجی تنصیبات یا میزائل نظام کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اسے عموماً جنگی کارروائی ہی سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی خطے کو بڑے تصادم سے بچا سکتے ہیں، کیونکہ کسی بھی براہِ راست حملے کے سنگین علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں