آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کا بڑا مؤقف، ڈالر کی بالادستی ختم کرنے کی کوشش

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کی بالادستی کو کم کرنے کے لیے تیل کی تجارت کو دوسری کرنسیوں، خصوصاً چینی یوآن، میں منتقل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران اس پالیسی کو عملی شکل دیتا ہے تو یہ نہ صرف تیل کی عالمی منڈی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے بھی ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے باعث ایک اہم جغرافیائی برتری موجود ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اسی لیے اگر یہاں کسی قسم کی پابندی، شرط یا کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی پر پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ ایسے متبادل مالیاتی نظام کی تلاش میں ہے جس سے ڈالر پر انحصار کم ہو سکے۔ اگر تیل کی تجارت یوآن یا دیگر کرنسیوں میں ہونے لگتی ہے تو اس سے روایتی “پیٹرو ڈالر” نظام کو چیلنج مل سکتا ہے، جس کے تحت دہائیوں سے زیادہ تر عالمی تیل کی خرید و فروخت امریکی ڈالر میں ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک اور امریکا اس صورتحال کو عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں اور خطے میں بحری راستوں کو محفوظ رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ ایشیا اور یورپ کی معیشتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے کیونکہ متعدد بڑے ممالک کی توانائی کی ضروریات اسی راستے سے آنے والے تیل پر منحصر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں