خانہ پولیس کے زیرِ نگرانی علاقے پنڈورِئَن گاؤں میں پیش آنے والا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری، اور منشیات جیسے ناسور کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے لیے لاحق خطرات کی ایک واضح مثال ہے۔ نوجوان اشتیاق عباسی، جو ایک بہادر اور باہمت سماجی کارکن تھا، کافی عرصے سے علاقے میں منشیات کے خلاف مہم چلا رہا تھا۔ وہ کھلے عام منشیات فروشوں کو بے نقاب کرتا، ان کی سرگرمیوں پر آواز بلند کرتا، اور مقامی پولیس سے مطالبہ کرتا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
تاہم، جہاں وہ نوجوان معاشرے میں اصلاح لانے کی کوشش کر رہا تھا، وہیں اسے مسلسل سنگین نوعیت کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں، جنہیں نظرانداز کر دیا گیا۔ واقعے کے روز جب وہ صبح تقریباً 11 بجے ٹیوب ویل نمبر 18 کے قریب موجود تھا، تو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی۔ گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے اور تاحال ان کی گرفتاری کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اس واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مقامی افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، ٹریفک معطل کی، اور پولیس پر الزام عائد کیا کہ انہیں بارہا اطلاع دینے اور دھمکیوں کی شکایات کے باوجود نوجوان کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر پولیس وقت پر کارروائی کرتی، تو آج ایک قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔
اشتیاق عباسی کی شہادت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تحفظ دینا صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ پوری معاشرتی سوچ کی ذمے داری ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف منشیات کے خلاف مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ہمیں ایسے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ سچ بولنے اور حق کا ساتھ دینے والے خود ظالموں کا شکار نہ بنیں۔







