سیکریٹری آئی ٹی نے تسلیم کیا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا، کیونکہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل میں آنے والا فالٹ مکمل طور پر درست نہیں کیا جا سکا ہے۔ ان کے مطابق، انٹرنیٹ کی فراہمی میں تعطل کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سطح پر سمندری کیبل نیٹ ورک میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی ہے، جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کی کنیکٹیویٹی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فالٹ کی مرمت کے لیے ماہرین کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں، لیکن سمندری کیبلز کی گہرائی اور مقام کی دشواریوں کی وجہ سے مرمت کا عمل وقت طلب ہے۔ حکومت نے متعلقہ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ رابطہ قائم کر لیا ہے تاکہ مرمت کے کام میں مزید تیزی لائی جا سکے۔
سیکریٹری آئی ٹی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے سست ہونے سے نہ صرف عام صارفین بلکہ آن لائن کاروبار، تعلیمی ادارے، بینکنگ سسٹم اور سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں انٹرنیٹ کی رفتار بتدریج بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔
مزید یہ کہ وزارتِ آئی ٹی ملک میں متبادل انٹرنیٹ ذرائع، بالخصوص فائبر نیٹ ورک اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسی تکنیکی خرابیوں کے اثرات کم سے کم ہوں۔ سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے مستحکم اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی ضرورت ہے، اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔







