جعفر ایکسپریس کے ٹریک پر دھماکہ ایک نہایت سنگین اور تشویشناک واقعہ ہے جو 7 اکتوبر 2025 کو بلوچستان کے ضلع سکھر کے قریب سلطان کوٹ کے علاقے میں پیش آیا۔ اس دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں کئی مسافر زخمی ہو گئے اور ریلوے کی سروس بھی متاثر ہوئی۔ بلوچستان ریپبلکن گارڈز نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو اس خطے میں موجود امن و امان کی صورتحال کی سنگینی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں اور مسلح گروہ اب بھی ریلوے انفراسٹرکچر اور مسافروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے علاقائی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام اور ایمرجنسی سروسز نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور حادثے کے بعد صورتحال کو قابو میں لانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت، اس کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ جعفر ایکسپریس پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جو اس سال پیش آیا ہے؛ مارچ 2025 میں بھی اسی ٹرین پر بلوچستان کے علاقے بولان میں مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس میں 21 مسافر اور 4 فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ واقعات پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں اور حکومت کی توجہ ان خطرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
پاکستانی حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات کا اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر اور تیز کی جائیں گی۔ حکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کو بے نقاب کرے گی بلکہ ریلوے اور دیگر حساس اداروں کی حفاظت کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات بھی اٹھائے گی۔ اس کے علاوہ، مختلف محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے پیشگی تدابیر اختیار کریں تاکہ مسافروں اور عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ عوامی حلقوں میں بھی اس حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور سب سے زیادہ مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
یہ حملہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید سخت اور مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن قائم رکھا جا سکے اور عوام کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔







