ڈرامہ “جمع تقسیم” میں ہمارے معاشرے میں سسرال والوں کے دوہرے معیار کی عکاسی کی گئی ہے

ڈرامہ “جمع تقسیم” نے معاشرتی رویوں اور خاندانی تعلقات کے ایک نہایت حساس اور اہم پہلو کو بے نقاب کیا ہے، جو ہمارے معاشرے میں عورت کے مختلف کرداروں کے حوالے سے موجود دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ڈرامے میں ایک ایسا پہلو نمایاں کیا گیا ہے جہاں سسرال والے اپنی بیٹی کے لیے علیحدہ گھر کی خواہش رکھتے ہیں، تاکہ وہ اپنی زندگی آرام دہ اور خودمختار انداز میں گزار سکے، مگر جب وہی بیٹی بہو بن کر ان کے گھر آتی ہے تو ان کی توقعات بدل جاتی ہیں۔ بہو سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی حقوق، خوابوں اور خواہشات کو قربان کر کے سسرال کے ساتھ رہے، ان کے ہر حکم پر عمل کرے اور ہر قسم کی قربانی دے۔ یہ تضاد نہ صرف عورت کی خودی اور آزادی کو مجروح کرتا ہے بلکہ خاندان کے اندر توازن اور محبت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس دوہری سوچ کی وجہ سے عورت کو ایک طرف بہن اور بیٹی کے طور پر احترام اور پیار ملتا ہے، لیکن دوسری طرف بہو کی حیثیت سے وہ محدود اور محکوم بن جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرتی نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم عورت کو اس کی حقیقی پہچان اور مقام دیں، چاہے وہ بہن ہو، بیٹی ہو یا بیوی۔ ہر عورت کو برابر کے حقوق، عزت، آزادی اور خودمختاری دی جانی چاہیے تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ایک مضبوط، متوازن اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں